آن لائن بدسلوکی: دروازے پر پولیس آئی تو معلوم ہوا ’میرے شوہر کے پاس فحش تصاویر تھیں‘

  • جیما ڈنسٹن
  • بی بی سی ویلز
"سٹاپ اِٹ ناو!"

،تصویر کا ذریعہThinkstock

برطانیہ میں لوگوں سے تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ کہیں ان کے گھر کا کوئی فرد انٹرنیٹ پر غیر مہذب یا فحش مواد تو نہیں دیکھ رہا۔

اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد آن لائن بدسلوکی کو روکنے کے لیے کام کرنے والی ایک خفیہ ہیلپ لائن کو موصول ہونے والی فون کالز میں تقریباً پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

'سٹاپ اِٹ ناؤ!' نامی ادارے کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزانے کی وجہ سے کچھ گھرانوں میں اس طرح کی علامات سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والی سارہ (فرضی نام) نے اس امید پر اپنی کہانی شیئر کی ہے کہ شاید اس سے دوسروں کو مدد ملے۔

یہ بھی پڑھیے

پانچ سال قبل، شادی کے پچیس سال بعد، ان کے شوہر کو بچوں کی فحش تصاویر رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہStop it Now

وہ کہتی ہیں 'مجھے تب تک بالکل اندازہ نہیں تھا جب تک پولیس نے ایک دن صبح صبح ہمارے گھر پر چھاپا مارا۔ میں اس وقت اوپر کام پر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کو اندازہ ہو گیا تھا کہ آگے کیا ہوگا لیکن وہ ان سے بار بار کہتا رہا کہ ’میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔'

پولیس پوچھ گچھ کے لیے ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئی اور ان کے گھر سے تمام الیکٹرانِک آلات بھی۔

اسی دن جب سارہ کی بلآخر اپنے شوہر سے پولیس سٹیشن پر اکیلے میں بات ہوئی تو اس نے اعتراف کیا کہ وہ پچھلے دس سال سے انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھتا آیا تھا اور اس میں پچھلے دو سال کے دوران غیر قانونی مواد بھی شامل تھا۔

سارہ کہتی ہیں، 'یہ سن کر میں بالکل دنگ رہ گئی۔'

'میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ تجربہ'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سارہ کو لگتا تھا کہ ان کے شوہر دیر رات تک کمپیوٹر پر کھیلوں کے شوق کی وجہ سے بیٹھے رہتے تھے

سارہ کہتی ہیں 'جب مجھے پتا چلا کہ میرے شوہر نے کیا کیا تھا تو میں فوراً اس سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی تھی۔ کئی خواتین ایسا نہیں کرتیں، لیکن مجھے پتا تھا کہ ہمارا رشتہ پہلے جیسا کبھی نہیں ہو سکتا۔'

سارہ کا خیال تھا کہ ان کا شوہر ان موضوعات کے بارے میں پڑھ رہا تھا جن میں اس کی دلچسپی تھی، جیسے کہ کھیل وغیرہ۔

لیکن اب انہیں یہ لگا کہ وہ کبھی اپنے شوہر پر بھروسہ نہیں کر سکتیں اس لیے انہوں نے طلاق لینے کی کارروائی شروع کی۔

سارہ خود پیشے سے ٹیچر ہیں، اور یہ ان کے کام کے لیے بھی نقصان دہ تھا۔ ساتھ ہی ان کی دو بیٹیاں اس وقت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں، ان کو یہ بات بتانا بھی آسان نہیں تھا۔

سارہ کہتی ہیں 'اپنی بیٹیوں کو یہ بتانا نہایت ہی تکلیف دہ تھا، اور وہ بھی فون پر، کیونکہ وہ دونوں گھر سے دور یونیورسٹی میں تھیں۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے انہیں فوراً نہ بتایا تو انہیں کہیں سوشل میڈیا کے ذریعے پتا نہ لگ جائے۔'

وہ مزید کہتی ہیں ’پولیس ہمارے گھر آئی تھی، میرے شوہر کے کام پر بھی گئی تھی اور وہاں سے اس کا کمپیوٹر ضبط کیا تھا۔ اس لیے میں یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ ہمارے علاقے میں لوگ اس بارے میں کیا کچھ جانتے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تب سے اب تک دونوں بیٹیوں کا اپنے والد کے ساتھ رشتہ کچھ حد تک بحال ہو گیا ہے۔ تاہم سارہ، جنہوں نے دوسری شادی کر لی ہے، کہتی ہیں کہ وہ 'اداس' ہیں، اور ایک 'بہت ہی افسردہ' زندگی گزار رہی ہیں۔

سارہ کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ اس طرح کے مسائل کی علامات پہچانی جائیں۔ ان کے شوہر کافی عرصے سے ڈپریشن اور احساس کمتری کے شکار تھے۔ وہ کام پر بھی پریشان رہتے تھے اور انہیں ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں ان کی نوکری نہ چلی جائے۔

سارہ کو اندازہ تھا کہ شاید کچھ مسئلہ ہے اور ان کی گرفتاری سے کچھ ہفتے پہلے انہوں نے اپنے شوہر کے مینیجر کو فون کر کے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

سارہ کو لگتا تھا کہ ان کے شوہر دیر رات تک کمپیوٹر پر کھیلوں کے شوق کی وجہ سے بیٹھے رہتے تھے اور اسی وجہ سے ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی تھی۔

وہ کہتی ہیں 'اب میں سوچتی ہوں کہ کاش میں اتنی بھولی اور بھروسہ کرنے والی نہ ہوتی، تھوڑی شکی ہوتی۔

'اس طرح کے جرائم کے اصل شکار وہ بچے ہوتے ہیں جن کی فحش تصاویر بنائی جاتی ہیں۔'

سارہ کہتی ہیں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ اگر کسی کو کسی کے بارے میں کوئی بھی شک ہو تو وہ اسے نظر انداز نہ کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ فلاحی ادارے ’سٹاپ اِٹ ناؤ!‘ نے ان کی بہت مدد کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سارہ کو اندازہ تھا کہ شاید کچھ مسئلہ ہے

'علامات پر نظر رکھنا'

'سٹاپ اِٹ ناؤ!' برطانیہ کہ پہلی ایسی ہیلپ لائن ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کو روکنے کی غرض سے ان افراد کی مدد کرتی ہے جنہیں اپنے جنسی خیالات اور رویوں کے بارے میں اس طرح کے خدشات ہوں۔

ہیلپ لائن کے ڈائیریکٹر ڈولنڈ فائینڈلیٹر کا اصرار ہے کہ اگر کسی کو بھی ایسا لگے کہ ان کے چاہنے والے بچوں کی فحش یا جنسی نوعیت کی تصاویر دیکھ رہے ہیں تو وہ اس ہیلپ لائن پر کال کریں۔

وہ کہتے ہیں 'کووڈ کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کافی زیادہ وقت گزار رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اسی وجہ سے ہمیں موصول ہونے والی کالز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یا تو لوگوں کو خود اس کا زیادہ احساس ہو رہا ہے یا پھر ان کے کسی گھر والے نے کچھ دیکھا ہے۔'

وہ مزید کہتے ہیں 'پچھلے ایک سال میں وبا کی وجہ سے خود کو تنہا محسوس کرنا، پریشانی، غیر یقینی کے احساسات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم سے مدد مانگنے والوں کی جو پورناگرافی یا فحش مواد دیکھنے کی عادات ہیں ان میں شدت آئی ہے، اور پھر یہ غیر قانونی آن لائن کارروائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی علامات کی نشاندہی کرنا آسان نہیں۔ لیکن ان میں اپنی آن لائن ڈیوائیسز کے بارے میں زیادہ حساس اور خفیہ ہو جانا، ان کا استعمال عجیب یا غیر معمولی اوقات پر کرنا، اور پھر دوسرے دن بیچینی یا احساس جرم کا مظاہرہ کرنا شامل ہو سکتا ہے۔'

نیشنل پولیس چیفز کاؤنسل میں بچوں کے تحفظ کے معاملات کے سربراہ چیف کانسٹیبل سائمن بیلی کہتے ہیں 'اگر کسی کے بھی ذہن میں بچوں کے بارے میں غیر مناسب خیالات آ رہے ہوں، یا اگر کسی کو لگے کہ ان کے گھر میں کوئی ایسا شخص ہے تو انہیں فوراً 'سٹاپ اِٹ ناؤ!' سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ورنہ اپنے دروازے پر پولیس کا استقبال کرنے کے لیے تیار رہیں۔'