کورونا: چینی وزیر خارجہ کہتے ہیں ’امریکی قیادت کو سیاسی وائرس لگ گیا ہے‘

چینی وزیر خارجہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

چینی وزیر خارجہ وانگ ژئی نے کہا ہے کہ امریکہ کی قیادت کو سیاسی وائرس لگ گیا ہے جو انھیں چین پر تنقید کرنے پر مجبور کرتا رہتا ہے

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژئی نے امریکہ کی جانب سے چین پر کورونا وائرس کو پھیلانے کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین سے باہمی تعلقات کو سرد جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

چین اور امریکہ کے درمیان کورونا وائرس اور ہانگ کانگ پر بیجنگ کی طرف سے سخت قوانین لاگو کرنے کے حوالے سے جاری تلخ بیانات کے تبادلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژئی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی قیادت کو سیاسی وائرس لگ گیا ہے جو انھیں چین پر تنقید کرنے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔‘

چینی وزیر خارجہ نے اتوار کو ایک پریس کانفرس کے دوران چین کی طرف سے یہ پیش کش بھی کی کہ وہ کورونا وائرس کے بارے میں تحقیقات کرنے میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

وانگ ژئی نے چین کے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے مشاہدے میں آیا ہے کہ امریکہ میں کچھ سیاسی قوتوں نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو یرغمال بنا رکھا ہے اور دونوں ملکوں کو سرد جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں تجارت، انسانی حقوق اور مختلف مسائل پر طویل عرصے سے جاری کشمکش نے شدت اختیار کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چینی وزیر خارجہ وانگ نے ان قوتوں کا نام نہیں لیا جن کے خلاف وہ بات کر رہے تھے لیکن دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا جس سے اب تک دنیا بھر میں تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اس کے ابتدائی دنوں میں مبینہ طور پر چین کی طرف سے مناسب احتیاطی تدابیر نہ کیے جانے پر تنقید میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش ہیں۔

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ چین نے گذشتہ برس وبا کے آغاز میں اس کو چھپانے کی کوشش کی اور ابتدائی دنوں میں اس کو روکنے میں ناکام رہا۔

تاہم واشنگٹن کی طرف سے چین پر کی جانے والی کڑی تنقید کے بارے میں عام رائے یہ ہی پائی جاتی ہے کہ صدر ٹرمپ اس طرح کی وبا سے نمٹنے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ جہاں کسی بھی دوسرے ملک سے کورونا وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس پر بظاہر طنز کرتے ہوئے وانگ ژئی نے کہا کہ ’میں امریکہ سے کہتا ہوں کہ وہ وقت ضائع کرنے کی بجائے انسانی جانوں کو بچانے پر توجہ دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ چین کورونا وائرس کا منبع تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ تحقیقات چین کو بدنام کرنے کے لیے سیاسی مداخلت سے پاک ہونی چاہیں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ نے مزید کہا کہ امریکہ میں کچھ سیاسی شخصیات کورونا وائرس کو چین کا نام دے کر اس پر سیاست کر رہے ہیں تاکہ چین کا نام داغ دار کیا جا سکے۔

سائنسی ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان میں انواع اقسام کے جانور فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں نے حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کے شروع ہونے کے بارے میں تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے چین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انھیں کورونا وائرس کے آغاز کے بارے میں تحقیقات کرنے کے لیے بلائے لیکن چین کا کہنا ہے یہ تحقیقات اس وقت کی جائیں جب اس وبا پر پوری طرح قابو پا لیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عالمی ادارۂ صحت کے رکن ممالک نے منگل کو ایک قرار داد منظور کی جو یورپی یونین کی طرف سے پیش کی گئی تھی جس میں بین الاقوامی سطح پر اس وبا سے نمٹنے کی کاوشوں کا تجزیہ کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس قرارداد میں چین کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔ اقوام متحد کے صحت کے ادارے کا یہ پہلا ’ورچوئل‘ یا آن لائن منقعد کیے جانے والا اجلاس تھا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ نے کہا کہ ’یہ تحقیقات کسی کو پہلے سے مجرم گردان کر نہیں کی جانی چاہیں۔ کورونا وائرس سے ہونے والی تباہی سے قطع نظر امریکہ میں سیاسی وائرس پھیل رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سیاسی وائرس میں چین پر تنقید کرنے اور بدنام کرنے کے ہر موقعے سے فائدہ اٹھانا مقصد ہے اور کچھ سیاست دان بنیادی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے بہت سے جھوٹ گھڑ رہے ہیں تاکہ چین کو نشانہ بنایا جا سکے۔'

چین کی طرف سے گذشتہ جمعہ کو ہانگ کانگ میں جمہوری آزادیوں کے لیے ہونے والے مظاہروں کے خلاف سکیورٹی قوانین کے نفاذ پر امریکہ اور دیگر ممالک نے چین کی مذمت کی ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری طور پر نفاذ ضروری تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ میں چین کے بڑھتے ہوئے اختیارات کے خلاف گذشتہ سال کئی ماہ تک پرتشدد ہنگامے جاری رہے تھے جس سے چین کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔