کواڈ سکیورٹی ڈائیلاگ: ایک طرف چین کی مخالفت تو دوسری جانب شراکت داری، انڈیا یہ توازن کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے؟

  • زبیر احمد
  • بی بی سی نامہ نگار، دہلی
نریندر مودی اور شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ میں جمعے کے روز کواڈریلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ (کواڈ) ممالک کی پہلی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے جس کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک ورچوئل ملاقات بھی ہو گی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد نئے امریکی صدر کی انڈین وزیر اعظم کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

کواڈ، جس میں انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں، کو چین کے خلاف رکن ممالک کے درمیان بحری صلاحیت اور تعاون بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن اس کے ایجنڈے میں وسعت اب آگئی ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ’رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور ایک آزاد، کھلے اور ایسے انڈو پسیفک خطے کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون کے بارے میں گفتگو کریں گے جو سب کے لیے ہو۔‘

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’قائدین کووڈ 19 کے وبائی مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے اور ہند و بحر الکاہل کے خطے میں سلامتی اور اشیا کی ترسیل کے ساتھ ساتھ سستی ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے میں تعاون کے بارے میں بات کریں گے۔‘

اس ورچوئل کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی، آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن، جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہائیڈ سوگا اور امریکہ کے صدر جو بائیڈن شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا چین کے ساتھ کیسے توازن برقرار رکھتا ہے؟

کواڈ سکیورٹی ڈائیلاگ کے رکن ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرون رسوخ کو روکنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے ہیں اور انڈیا اس فورم کا ایک اہم رکن ہے۔

تاہم دوسری طرف انڈیا ایک ایسے پلیٹ فارم میں بھی کافی سرگرم ہے جس میں انڈیا اور چین کا اہم کردار ہے۔ یہ برکس (BRICS) کا فورم ہے جس میں انڈیا اور چین کے علاوہ روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال انڈیا کو برکس کی صدارت ملی ہے اور انڈیا سال کے وسط میں یا اس کے فوراً بعد برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کی شرکت کا قوی امکان ہے۔

اگر ایسا ہوا تو یہ اس سال کی ایک بڑی پیشرفت ہو گی کیونکہ گذشتہ برس انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تصادم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سخت کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف انڈیا چین مخالف کاوشوں کا حصہ بن رہا ہے تو دوسرے فورم پر وہ چین کے ہمراہ کھڑا نظر آتا ہے، تو ایسی صورتحال میں نئی دہلی نے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں توازن کیسے برقرار رکھا ہوا ہے؟

ممبئی کے تھنک ٹینک گیٹ وے ہاؤس آف فارن پالیسی سے وابستہ سابق سفیر راجیو بھاٹیا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاس توازن برقرار رکھنے کے دو طریقے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا ہے ’برکس ایک 15 برس پرانی تنظیم ہے اور اس میں دونوں ممالک کے درمیان بہت تعاون کیا گیا ہے لیکن یہ ادارہ ایسے وقت میں قائم کیا گیا تھا جب چین کا کردار اچھا تھا اور انڈیا اور چین کے تعلقات بھی اچھے تھے۔ پچھلے تین چار برسوں میں اور خاص طور پر 2020 میں چین کا کردار منفی ہو گیا اور انڈیا، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چین کے تعلقات خراب ہوئے لہذا کواڈ کو آگے لایا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’کواڈ کو پہلے قائم کیا گیا تھا لیکن یہ چل نہیں سکا۔ اس کا دوسرا اوتار 2017 میں سامنے آیا۔ انڈیا کواڈ میں اس لیے شامل ہوا کیونکہ وہ چین کے ساتھ توازن برقرار رکھنا چاہتا تھا اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب انڈوپسیفک کی چار سپر پاورز (انڈیا، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا) ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور چین کو بتائیں کہ خطے میں جو بھی کام کرنا ہے وہ قانون کے تحت کرنا پڑے گا اور اگر آپ تعاون نہیں کرتے ہیں تو ہم وہ کریں گے جو ہمیں کرنے کی ضرورت پڑے گی۔‘

راجیو بھاٹیا کہتے ہیں ’برکس میں بہت کام ہوا ہے اور یہ ایک متحرک ادارہ ہے یہ کواڈ سے زیادہ ترقی یافتہ ادارہ ہے۔ اب انڈیا برکس کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے لہٰذا برکس کو بھی آگے بڑھانے مفاد میں ہے۔’

کیا برکس زیادہ مضبوط ادارہ ہے؟

جب انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات خراب ہوئے تو برکس کو آگے لے جانے میں تھوڑی رکاوٹ آئی لیکن جب روس نے اس کی ورچوئل کانفرنس کی میزبانی کی تو انڈیا کے وزیر اعظم اور چین کے صدر بھی اس میں شریک ہوئے۔

گذشتہ ماہ چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین چاہتا ہے کہ برکس کانفرنس کی میزبانی انڈیا کرے، چین اس میں شریک ہو گا لیکن اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اس میں چین کے وفد کی سربراہی صدر کریں گے یا کوئی اور۔

اب تک اگر ہم برکس کانفرنس میں شی جن پنگ کی شرکت پر نظر ڈالیں تو وہ پچھلے پانچ برسوں سے اس میں مستقل طور پر شریک ہو رہے ہیں اور انڈیا میں خارجہ پالیسی پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بار بھی اُن کے شامل ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

گو کہ کواڈ کی بنیاد 2007 میں رکھی گئی تھی لیکن اس نے اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ سال 2017 میں اس کی تنظیم نو کی گئی تھی اور اس سال اس کی پہلی سربراہ کانفرنس ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہBJP

،تصویر کا کیپشن

حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم مودی نے عالمی امور میں انڈیا کے اہم کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے

انڈیا چین کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 4500 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ چین کے بارے میں انڈیا کی پالیسی میں ان چیزوں کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ انڈیا برکس اور کواڈ دونوں میں شامل ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سبرامنیم سوامی نے ایک ٹویٹ میں تجویز پیش کی تھی کہ انڈیا کا جھکاؤ برکس کی طرف ہونا چاہیے لیکن یہ تجویز انڈیا کی خارجہ پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

چین کے حوالے سے خارجہ پالیسی

انڈیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جےشنکر نے حال ہی میں ’دی انڈین وے: سٹریٹجی فار این انسرٹن ورلڈ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے چین کے بارے میں ایک مکمل باب لکھا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چین کو سنبھالا جائے۔

تعلقات کا سنبھالنا اور ان کا گہرا ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ان کی کتاب انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تصادم سے پہلے شائع ہوئی تھی۔ اس تصادم سے قبل دونوں ممالک کے درمیان دوستی مضبوط دکھائی دے رہی تھی لیکن اس کے باوجود وزیر خارجہ نے چین سے تعلقات کو سنبھالنے کی بات کی۔

وزیر خارجہ کی کتاب خود ان کی خارجہ پالیسیوں کی جھلک پیش کرتی ہے۔ وہ اقوام متحدہ جیسے بہت سے ممالک والے اداروں کی نسبت کم ممالک پر مبنی چھوٹے گروپوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کواڈ اور برکس دونوں میں انڈیا کی شمولیت سے توازن بگاڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ذرائع نے بتایا کہ انڈیا ہر بین الاقوامی سٹیج پر بڑی ٹیبل پر بیٹھنا چاہتا ہے۔

’اقوام متحدہ میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں آپ کی قیادت ہمیشہ ترقی نہیں کر سکتی۔ چھوٹے گروپوں میں، انڈیا خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو ملک کا پروفائل بلند کرتا ہے۔‘

حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم مودی نے عالمی امور میں انڈیا کے اہم کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا ہے۔