لاہور کا محبت کرنے والا جوڑا: ’دونوں بازو، ٹانگ کٹ گئی تو میں نے سوچا کیا وہ مجھے چھوڑ دے گی؟‘

  • عمر دراز ننگیانہ، فرقان الہی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور

داؤد صدیق کے لیے وہ معمول کا ایک دن تھا۔ ان کے گھر پر دعوت تھی اور وہ گھر کے باقی افراد کے ساتھ انتظامات میں مصروف تھے۔ ساتھ ہی موبائل فون پر ان کی بات چیت ثنا سے بھی بات چل رہی تھی۔

ان دنوں ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ دونوں زیادہ دیر تک ایک دوسرے سے بات نہ کریں۔ ثنا فون پر انھیں کہہ رہی تھیں کہ ’آ کر چہرہ ہی دکھا جاؤ‘ اور عین اسی وقت داؤد کے والد نے گھر کے اندر سے انھیں آواز دی۔

ثنا کو ’ٹھیک ہے جی، آتا ہوں‘ کہہ کر انھوں نے فون بند کیا اور والد کے کہنے پر لوہے کا ایک لمبا سا ڈنڈا اٹھا کر سیڑھیوں سے گھر کی چھت کے طرف چل پڑے۔

لیکن اسی روز ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ داؤد کے ہاتھ میں موجود آہنی ڈنڈا اوپر سے گزرتی بجلی کی تاروں سے ٹکرایا اور ایک زور دار دھماکے نے انھیں اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔

جھٹکا اس قدر شدید تھا کہ داؤد کا جسم چند لمحوں کے لیے آگ کے شعلے میں تبدیل ہوا اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

آس پاس موجود لوگوں نے انھیں اٹھایا اور سر سے نیچے کا ان کا تمام جسم ریت میں دبا دیا۔ داؤد کو ذرا سی دیر کے لیے ہوش آیا تو وہ صرف اتنا کہہ پائے کہ ’مجھے یہاں سے نکالو میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس دوران ثنا انھیں مسلسل فون کر رہی تھیں مگر وہ رابطہ نہ کر سکے۔

جب داؤد کو دوبارہ ہوش آیا تو وہ لاہور کے جناح ہسپتال کے ایک وارڈ میں بستر پر تھے اور ان کے جسم پر سفید پٹیاں لپٹی تھیں۔ جلد ہی انھیں خبر مل گئی کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی زندگی بچانے کے لیے ان کے دونوں بازو اور ایک ٹانگ کاٹنا ضروری تھا۔

داؤد کو اپنے ماموں سے معلوم ہوا کہ یہی ایک ہسپتال تھا جہاں ان کا علاج ممکن ہو پایا تھا۔

’ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ بازو اور ٹانگ تو دوبارہ بھی لگ سکتی ہے لیکن ہم زندگی دوبارہ نہیں ڈال سکتے۔‘

یہ واقعہ گذشتہ برس نومبر کے مہینے میں پیش آیا۔ تین ماہ بعد آج داؤد لاہور کے جنرل ہسپتال کے عقب میں واقع قینچی کے علاقے میں اپنے ماموں کے گھر پر مقیم ہیں۔

اپنے کمرے میں پلنگ پر بیٹھے وہ اس وقت کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے۔ اپنے گھٹنے کی مدد سے آنکھیں خشک کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے کہنیوں تک ان کے بازو کاٹے گئے۔

’پھر ڈاکٹروں نے میرے پورے بازو کاٹ دیے۔ پھر میری دائیں ٹانگ بھی گھٹنے تک کاٹنا پڑی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘

ہسپتال میں جب سے انھیں ہوش آیا تھا ان کے ذہن میں ثنا کا خیال تھا۔ وہ تو ان سے ملنے کے لیے جانے والے تھے۔ وہ اب کہاں ہوں گی؟ کیا انھیں پتہ بھی ہو گا کہ ان کے ساتھ کیا حادثہ پیش آ چکا ہے؟

'کیا ثنا مجھے چھوڑ دے گی؟'

نومبر کو ہونے والے اس واقعے سے چند ماہ پہلے کی بات تھی جب داؤد کی ثنا مشتاق سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ دونوں رشتہ دار بھی تھے۔ داؤد کی بہن کی شادی ثنا کے چچا سے ہوئی تھی۔ داؤد کی عمر اکیس برس جبکہ ثنا بیس سال کی تھیں۔

گھر کی ایک دعوت میں پہلی مرتبہ ان کی بات چیت ہوئی۔ باتوں اور پھر میل ملاقاتوں میں کب انھیں محبت ہو گئی انھیں پتہ بھی نہیں چلا۔ بس یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر، بات کیے بنا زیادہ وقت نہیں گزارتے تھے۔

لیکن دونوں کے گھروں میں زیادہ تر افراد کو اس بارے میں معلوم ہی نہیں تھا۔ یہی سوچتے ہوئے جب ہسپتال کے بستر پر لیٹے داؤد کی خود پر نظر پڑی تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

جب ثنا کو معلوم ہوا کہ داؤد کو کرنٹ لگا ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں تو وہ اپنی ایک کزن کو ساتھ لیے جنرل ہسپتال کی طرف دوڑیں

’مجھے یہی خیال آیا کہ اس حالت میں کیا ثنا اب مجھے قبول کرے گی یا وہ مجھے چھوڑ دے گی۔‘

میں نے اس کا نام لیا، اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں

جب ثنا کو معلوم ہوا کہ داؤد کو کرنٹ لگا ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں، وہ اپنی ایک کزن کو ساتھ لیے جنرل ہسپتال کی طرف دوڑیں۔ داؤد انھیں نہیں ملے، جنھیں اس وقت تک جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

مایوس ہو کر انھوں نے داؤد کے ماموں کو فون کیا۔ ان کے ذریعے ثنا کو معلوم ہوا کہ داؤد کہاں ہیں، ان پر کیا گزری تھی اور اب ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا تھا۔

اب وہ ہر حال میں داؤد سے ملنا چاہتی تھیں۔ انھیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ ان کے گھر والے کیا سوچیں گے یا لوگ کیا کہیں گے۔

اپنے گھر والوں کو راضی کر کے وہ داؤد کو دیکھنے اُن کے ساتھ جناح ہسپتال پہنچیں مگر کوئی انھیں اوپر وارڈ تک لے کر نہیں لے جا رہا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثنا نے بتایا کہ وہ چپکے سے خود ہی اوپر چلی گئیں اور اس وقت داؤد کا آپریشن ہوئے آٹھ گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے۔

’انھیں ابھی ہوش نہیں آیا تھا اور انھوں نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔ ان کا پورا چہرہ سوجا ہوا تھا۔ میں نے ان کے کان میں ان کا نام لیا۔ انھوں نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا تم نے پریشان نہیں ہونا، میں آ گئی ہوں۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔‘

،تصویر کا کیپشن

ثنا کے گھر والے انھیں ہسپتال سے یہ کہہ کر لے گئے کہ ان کی شادی داؤد سے کروا دیں گے مگر گھر جا کر انکار کر دیا

یہ سن کر داؤد خوش بھی تھے اور فکر مند بھی۔ چھوٹی عمر کی ثنا دھیمے لہجے مگر مضبوط اعصاب کی مالک، ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھیں۔ چند برس قبل ان کی اپنی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد سے انھوں نے اپنے تین بہن بھائیوں اور گھر کو سنبھال رکھا تھا۔

وہ فیصلہ کر چکی تھیں۔ انھوں نے گھر والوں کو بتا دیا کہ وہ داؤد سے شادی کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کے والد راضی نہیں تھے۔

’انھوں نے کہا کہ تم کیا کرو گی۔ داؤد کے بازو نہیں ہیں، اس کی ٹانگ نہیں۔ میں نے کہا مجھے پرواہ نہیں۔ میں نے اس کا ساتھ دینا ہے۔ گھر والوں نے کہا تم ایک شخص کے لیے سب کو چھوڑ دو گی؟ میں نے کہا مجھے بس داؤد چاہیے۔‘

داؤد کا کہنا تھا کہا کہ انھیں لگتا تھا کہ اگر انھوں نے خود ثنا سے شادی کے لیے کہا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔

’ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اچھا نظر آنے والا ہو، صحت مند ہو۔ میری جیسی حالت میں کون کسے قبول ہوتا ہے۔ پھر میں نے یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ اگر میرے نصیب میں ہوئی تو مجھے مل جائے گی۔

اس دوران ثنا کی شادی کہیں اور طے کر دی گئی۔

ثنا کے گھر والے انھیں ہسپتال سے یہ کہہ کر لے گئے کہ ان کی شادی داؤد سے کروا دیں گے مگر گھر جا کر انکار کر دیا۔ گھر والوں کا خیال تھا کہ وہ اس وقت جذباتی تھیں، کچھ روز میں خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔

داؤد نے بھی ثنا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ’تمہارے گھر والے ٹھیک کہتے ہیں۔ کوئی والدین اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتے۔ میری تو ابھی زندگی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ روز ڈاکٹر کہتے تھے یہ نہیں بچے گا۔‘

لیکن ثنا اپنی بات پر قائم رہیں۔ ’مجھے پتہ تھا میں کس کے ساتھ خوش رہوں گی۔‘

ان کے گھر والوں نے مسئلے کا حل اس طرح نکالنا چاہا کہ ثنا کی کہیں اور بات پکی کر کے جلد ہی منگنی کروا دی اور شادی کی تاریخ مقرر کر دی۔

شادی سے دو ہفتے قبل ثنا گھر چھوڑ کر نکل گئیں لیکن وہ داؤد کے پاس بھی نہیں جا سکتی تھیں۔ داؤد اور ان کے گھر والے بھی ثنا کو سمجھا رہے تھے کہ وہ عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔ اس اثنا میں ثنا اپنی ایک خالہ کے گھر چلی گئیں۔

خدا نے اگر تمہارے بازو لیے، تو دے بھی تو رہا ہے

داؤد اب بھی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ انھوں نے خود کے ساتھ پیش آنے والے حادثے سے قبل ثنا کے ساتھ مل کر اپنی زندگی کے بارے میں کئی منصوبے بنائے تھے۔

داؤد اپنے والد کے بیمار ہونے کے بعد اکیلے ہی کاروبار سنبھالتے تھے۔ گھر پر انھوں نے چکی لگا رکھی تھی جہاں وہ خود کام کرتے تھے۔

ان دونوں نے سوچ رکھا تھا کہ شادی کے بعد ان کا اپنا ایک گھر ہو گا۔ دونوں مل کر محنت سے اپنی زندگی سانچیں گے لیکن داؤد کو لگتا تھا کہ یہ اس وقت کی بات تھی جب وہ ٹھیک تھے۔

’اس وقت تو ہم نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھی۔لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب میں بالکل تندرست تھا۔ اب تو میرے بازو لگ بھی جائیں تو میں کوئی بھاری کام نہیں کر پاؤں گا۔‘

لیکن ثنا کو پھر بھی یقین تھا ک مل کر وہ سب کچھ کر سکتے تھے۔

’میں نے انھیں کہا کہ پریشان نہ ہو۔ خدا نے اگر آپ کے بازو لے لیے ہیں تو دے بھی تو رہا ہے۔ میں تمہارے بازو بنوں گی۔ تم کو جو کچھ کرنا تھا، میں تمہارے لیے کروں گی۔‘

اب منع نہ کرنا۔۔۔میں سب کچھ چھوڑ آئی ہوں

ثنا اب واپس گھر جانے کو تیار نہیں تھیں۔ ایک ماہ اپنی عزیزہ کے ہاں وقت گزارنے کے بعد انھوں نے داؤد سے پھر رابطہ کیا۔

’میں نے ان سے کہا کہ اب مجھے منع نہ کرنا۔ اب تو میں سب کچھ چھوڑ کے آ گئی ہوں۔ تو اس نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر میں داؤد کے پاس آ گئی۔‘

یہ کہتے ہوئے وہ پرنم آنکھوں سے مسکرا رہی تھیں۔

،تصویر کا کیپشن

داؤد اپنے والد کے بیمار ہونے کے بعد اکیلے ہی کاروبار سنبھالتے تھے۔ گھر پر انھوں نے چکی لگا رکھی تھی جہاں وہ خود کام کرتے تھے

گذشتہ ماہ داؤد کے ماموں کے گھر پر ایک چھوٹی سی تقریب میں ان دونوں کی شادی ہو گئی لیکن ثنا کے گھر والے اس میں شریک نہیں ہوئے۔

شادی کے بعد اب داؤد کا ہر کام ثنا خود کرتی ہیں۔ انھیں کپڑے تبدیل کروانا، کھانا کھلانا اور مرہم لگانے میں ان کا دن گزرتا ہے تاہم ان کے لیے سب سے اہم داؤد کو بے بسی کے احساس اور دکھی ہونے سے بچانا ہے۔ اور یہ کام آسان نہیں۔

سوچتا ہوں خدا نے میرے ساتھ یہ کیا کر دیا

داؤد کو کسی دوسرے پر بوجھ بننا پسند نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ بھرائی ہوئی آواز میں وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی کوئی سہارا دے کر غسل خانے لے جاتا ہے یا باہر تک لے جاتا ہے تو یہ خیال آتا ہے کہ خدا نے یہ میرے ساتھ کیا کر دیا۔‘

وہ کہتے ہیں ’لیکن پھر میری بیوی ثنا میرے پاس آتی ہے اور مجھے حوصلہ دیتی ہے کہ ایسے نہیں سوچتے۔‘

ثنا ساتھ ہی خود کو بھی حوصلہ دیتی ہیں۔ جب انھوں نے یاد کیا کہ کیسے داؤد انھیں کہتے تھے کہ شادی کے بعد انھیں گھمانے لے جائیں گے تو ان کی آواز بھی بھر آتی ہے۔

’اب مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں کہتی ہوں کوئی بات نہیں جب آپ ٹھیک ہو جاؤ گے تو آپ مجھے خود لے جانا ساتھ۔‘

ایک دوسرے کو پا کر وہ دونوں کہتے ہیں وہ بہت خوش ہیں تاہم ایک خلش باقی ہے۔

میں سوچتی ہوں اگر میرے ساتھ یہ واقعہ ہو جاتا

ثنا کے گھر والے اب بھی ان سے ناراض ہیں۔ داؤد کے ایک تایا نے بھی ان سے بول چال ختم کر رکھی ہے تاہم حال ہی میں ثنا کے والد نے فون پر ان سے بات کی تھی۔

’میرے بابا نے فون کیا تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے کہا میں ٹھیک ہوں اور خوش ہوں۔ پھر میں نے کہا یہ داؤد سے بات کریں، تو میرے بابا نے فون بند کر دیا۔‘

یہ بتاتے ہوئے انھوں نے پہلے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کی لیکن پھر وہ رونے لگیں۔

’میں نے داؤد سے کہا آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ انھوں نے کہا میں تو بس یہ چاہتا ہوں تم خوش رہو۔ میں نے کہا آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ میں اپنے بابا کو منا لوں گی۔‘

اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ثنا نے کہا: ’میں سوچتی ہوں کہ اگر میرے ساتھ یہ واقعہ ہو جاتا تو میرے گھر والے کیا سوچتے اور اگر اس وقت داؤد مجھے اپنا لیتے تو ان کو کتنی خوشی ہوتی۔ اب اگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے تو انھیں تو خوش ہونا چاہیے مگر وہ یہ نہیں سوچتے۔‘

ثنا نے جو کر دیا ہے وہ کوئی نہیں کر سکتا

داؤد اپنے پہلو میں بیٹھی ثنا کے آنسو شاید پونچھنا چاہتے تھے۔ ان کی طرف دیکھ کر وہ صرف اتنا کہہ پائے کہ ’انھوں نے تو جو کر دیا ہے وہ کوئی نہیں کرتا۔ بڑا حوصلہ چاہیے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے گھر والے ان سے راضی ہو جائیں۔‘

وہ دونوں اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔ داؤد کی سوچ میں کسی پر بوجھ بننا اب بھی شامل نہیں۔ وہ صرف تھوڑی سی مدد چاہتے ہیں۔

’میں مخیر حضرات سے اور حکومت سے اپیل کرتا ہوں کے میرے مصنوعی بازو اور ٹانگ لگوا دیں یا مجھے کوئی کاروبار کروا دیں تاکہ میں اپنی فیملی کی خود دیکھ بھال کر سکوں۔‘

یہ کہہ کر وہ سر جھکا لیتے ہیں تو ثنا ان کی طرف دیکھ کر کہتی ہیں کہ ’داؤد کے بازو لگ جائیں اور ٹانگ لگ جائے اور یہ صرف میرے آس پاس چلتے پھرتے رہیں، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔‘